Showing posts with label طلاق اور نکاح. Show all posts
Showing posts with label طلاق اور نکاح. Show all posts

طلاق اور نکاح

طلاق اور نکاح
طلاق گناہ نہیں ہے۔ 
طلاق حق ہے ۔ جائز ہے۔
طلاق عدل اور انصاف ہے۔
طلاق ظلم کے خلاف آواز ہے۔ 
طلاق نکاح کی پاکیزگی و اہمیت کا احساس ہے۔
طلاق اللہ کا حکم ہے ۔ 
جو اللہ کی حدود کو متعین کرتی ہے۔۔
طلاق پیغام ہے تنبیہ ہے ۔ 
نکاح کی پاکیزگی اور توقیر و عظمت کو برقرار رکھنے کے لئے۔۔ 
اللہ کو صرف پاکیزہ نکاح پسند ہیں۔ نکاح میں کسی قسم کا کھوٹ منظور نہیں ۔۔
لہذٰا طلاق کو اسی طرح بیان کیا جائے جیسے اللہ نے مقرر کیا۔۔
اور اللہ کے حکم کے مطابق ہی لاگو کیا جائے۔۔
اللہ کے احکام کے تابع نکاح اور طلاق دونوں ہی حق ہیں۔۔ 
اللہ کے احکام میں انسانوں کے لئے حکمت اور بھلائی پوشیدہ ہے۔۔ 
طلاق کو گناہ بنا کر ہم نے نکاح کی پاکیزگی کو مجروح کیا ہے۔
لوگوں کو نکاح کے بعد گناہ کی دعوت دی ہے۔ 
طلاق کا خوف دلوں سے مٹا دیا ہے ۔۔
آج نکاح برقرار رکھتے ہوئے مرد اور عورت اپنے اپنے رستے بھٹک رہے ہیں۔
اللہ کو پاکیزگی پسند ہے۔ نکاح یا طلاق سے غرض نہیں۔۔
ہر صورت میں پاکیزگی برقرار رکھنے کا حکم ہے۔ 
اللہ  پاکیزہ نکاح پسند کرتا ہے
نکاح ہو یا طلاق دونوں اللہ کی حدود میں رہ کر ہونی چاہیئے۔۔
طلاق گناہ نہیں ۔۔ 
طلاق کا حق اللہ نے دیا ہے ۔ 
لہذٰا خود س گناہ بنا کر پیش کرنا اللہ کی نافرمانی ہے۔۔
طلاق صرف عورت کے لیے نہیں ۔ مرد کے لئے بھی حق اور جائز ہے ۔۔
طلاق کی شادی اور طلاق کی حدود اللہ نے بنائی ہیں۔ کوئی بھی اسے رد نہیں کر سکتا۔۔
اللہ نے جس طرح اور جتنا حق مرد اور عورت کو دیا ہے وہ حق ہے دونوں کے لئے۔۔ 
لہذٰا خود سے عورت اور مرد میں تضاد پیدا نہیں کرنا چاہیے۔۔

🕯القران🕯
Surat No 2 : سورة البقرة - Ayat No 229 

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ۪ فَاِمۡسَاکٌۢ بِمَعۡرُوۡفٍ اَوۡ تَسۡرِیۡحٌۢ بِاِحۡسَانٍ ؕ وَ لَا  یَحِلُّ  لَکُمۡ اَنۡ تَاۡخُذُوۡا مِمَّاۤ  اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ شَیۡئًا اِلَّاۤ اَنۡ یَّخَافَاۤ  اَلَّا یُقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰہِ ؕ فَاِنۡ خِفۡتُمۡ  اَلَّا یُقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰہِ  ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَا فِیۡمَا افۡتَدَتۡ بِہٖ ؕ تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ فَلَا تَعۡتَدُوۡہَا ۚ وَ مَنۡ یَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللّٰہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۲۲۹﴾
ترجمہ؛
طلاق ( زیادہ سے زیادہ ) دو بار ہونی چاہئیے ۔ اس کے بعد ( شوہر کے لیے دو ہی راستے ہیں ) یا تو قاعدے کے مطابق ( بیوی کو ) روک رکھے ( یعنی طلاق سے رجوع کرلے ) یا خوش اسلوبی سے چھوڑ دے ( یعنی رجوع کے بغیر عدت گذر جانے دے ) ۔ اور ( اے شوہرو ! ) تمہارے لیے حلال نہیں ہے کہ تم نے ان ( بیویوں ) کو جو کچھ دیا ہو وہ ( طلاق کے بدلے ) ان سے واپس لو ، الا یہ کہ دونوں کو اس بات کا اندیشہ ہو کہ وہ ( نکاح باقی رہنے کی صورت میں ) اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے ( ١٥١ ) ۔ چنانچہ اگر تمہیں اس بات کا اندیشہ ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو ان دونوں کے لیے اس میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ عورت مالی معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کرلے ۔ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود ہیں ، لہذا ان سے تجاوز نہ کرو ۔ اور جو لوگ اللہ کی حدود سے تجاوز کرتے ہیں وہ بڑے ظالم لوگ ہیں ۔