اقتباس _ انمول

»» Anmol

Mohabbat aur ezzat dono hi anmol hain. Aik anmol cheez ke husool k liye dusry anmol cheez ko gawa dena bewaqoofi hai , ezzat k rehte huwe mohabbat k husool ko mumkin banao, 
warna usi ki hifazat karo jo tumhare pas pehlay se mojood hai.

»» Tahaffuz

Aurat teen rishtoon se tahaffuz ka ehsas chahti hai.
1-Baap
2-Bhai 
&
3-Shohar.

تقدیر اور نصیب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

" تقدیر اور نصیب "

🔹🔹🔹

🔹تقدیر (Taqdeer)

اللہ کا اٹل فیصلہ ، نظام قدرت ، جو صرف اور صرف اللہ کے اختیار میں ہے ۔ جس میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ۔ ہمیشہ اللہ کے مقرر کردہ دائرہ قدرت کے مطابق قائم و دائم رہنے والا قانون قدرت ۔۔۔ 


🔹"تقدیر" کا مطلب ہے "اللہ کا علم اور اس کا پہلے سے طے کردہ نظام

 اللہ نے پوری کائنات کا نظام ، اصول 

اور حدود بنا دیے ہیں۔

🔹جیسے: موت کا وقت ، رزق کا دائرہ ، انسان کے امکانات ، دنیا کا چلنے کا طریقہ 

 یہ سب تقدیر کے حصے ہیں۔

"یعنی" کائناتی قوانین اور اللہ کا علمِ ازلی"

🔹مثال: سورج کا مشرق سے نکلنا ، سیاروں اور ستاروں کی گردشِ ، وقت ، دن مہینوں کا چکر 

🔹موسم: سردی ، گرمی ، بہار ،خزاں

بادل ، بارش ،آندھی، طوفان ، زلزلے ، بجلی کی چنگھاڑ ۔۔ 

🔹نباتات و معدنیات ، ہوا پانی ، آگ ، مٹی کے خواص یہ سب صرف اور صرف اللہ کے اختیار قدرت میں ہے ۔

🔹پیدائش : کسی کا پیدا ہونا ، کب ، کہاں ، کیسے پیدا ہونا ،

🔹والدین ، بہن بھائی ، اولاد یعنی حقیقی رشتوں کا انتخاب ،

 صنف/جنس کا انتخاب یعنی لڑکا یا لڑکی ، 

کا انتخاب 

🔹جینا ، مرنا یعنی جب تک زندگی پائے گا اور کب مرے گا یعنی موت کا وقت مقررہ پر آنا ۔یہ سب تقدیر کے دائرے میں ہیں۔

🔹نصیب (Naseeb)🔹

معنی: کسی بھی چیز کا ملنا ، حصول ، مہیاء ہونا ،

 "نصیب" کا مطلب ہے وہ حاصل زندگی جو کسی بھی انسان کو  اسکے عمل ، محنت ، کوشش اور فیصلوں ، معاشرتی قوانین کے اصول و ضوابط کے نتیجے میں ملتا ہے۔

 یعنی انسان تقدیر/قانون قدرت کے اصولوں کے اندر رہتے ہوئے جو "محنت ، جہدوجہد ، کوشش کا انتخاب" کرتا ہے ، یا تدبیر اختیار کرتا ہے اور اس سے جو نتیجہ ملتا یا حاصل ہوتا ہے وہ اس کا نصیب ہوتا ہے۔ یعنی اسکی محنت ، مشقت اور کوشش کا صلہ یا نتیجہ ۔۔

🔹مثال: دو لوگ ایک ہی موقع پر ہوتے ہیں؛ ایک محنت کرتا ہے ، دوسرا سستی کرتا ہے۔ 

اللہ/ تقدیر نے دونوں کو مواقع دیے ، لیکن جو نتیجہ انہیں ملا ، وہ انکی محنت ، کوشش ، جدوجہد کا نتیجہ حاصل ہے  جسے نصیب کہتے ہیں یعنی 

انسان کی محنت کوشش اور جدوجہد کے مطابق حصولِ زندگی انکا نصیب ہوتا ہے 

فرق (Difference)

🔹تقدیر :

 اللہ کا علم + اللہ کا فیصلہ ،اٹل ، حتمی 

بنا کسی تغیر و تبدل کے 

کائناتی نظام جو اللہ کے اختیار ، قدرت کے منشاء ہے ۔

🔹نصیب :

انسان کا حصہ یعنی انسانی اختیارات کے نتائج کا حاصل ۔۔

جو اس کے انتخاب اور اعمال کے ساتھ جڑتا ہے۔

🔹تقدیر اللہ کی طے کردہ قانون قدرت ہے جس میں کسی کی مداخلت یا کسی قسم کی تبدیلی ممکن نہیں ہے 

🔹اور نصیب انسانی علم و فکر تدبر کا عمل 

کا نتیجہ ہے جو انسان اپنی کوشش ، جدوجہد اور عقلی فیصلوں سے پاتا ہے۔۔ یعنی حاصل کرتا ہے ۔



آپ کی رائے قیمتی ہے

براہ کرم کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں۔

Password Generator

Apnikawish.com Page Title

Password Generator

----

Select your options and click the "generate" button. Your passord will appear above.

اُردو اقتباسات ۔ دلچسپ مضامین

  اسلامی تعلیمات قرآن کی روشن میں آگہی
 اُردو اقتباسات ، دلچسپ مضامین اشعار ، لطائف اور بہت کچھ

طلاق اور نکاح

طلاق اور نکاح
طلاق گناہ نہیں ہے۔ 
طلاق حق ہے ۔ جائز ہے۔
طلاق عدل اور انصاف ہے۔
طلاق ظلم کے خلاف آواز ہے۔ 
طلاق نکاح کی پاکیزگی و اہمیت کا احساس ہے۔
طلاق اللہ کا حکم ہے ۔ 
جو اللہ کی حدود کو متعین کرتی ہے۔۔
طلاق پیغام ہے تنبیہ ہے ۔ 
نکاح کی پاکیزگی اور توقیر و عظمت کو برقرار رکھنے کے لئے۔۔ 
اللہ کو صرف پاکیزہ نکاح پسند ہیں۔ نکاح میں کسی قسم کا کھوٹ منظور نہیں ۔۔
لہذٰا طلاق کو اسی طرح بیان کیا جائے جیسے اللہ نے مقرر کیا۔۔
اور اللہ کے حکم کے مطابق ہی لاگو کیا جائے۔۔
اللہ کے احکام کے تابع نکاح اور طلاق دونوں ہی حق ہیں۔۔ 
اللہ کے احکام میں انسانوں کے لئے حکمت اور بھلائی پوشیدہ ہے۔۔ 
طلاق کو گناہ بنا کر ہم نے نکاح کی پاکیزگی کو مجروح کیا ہے۔
لوگوں کو نکاح کے بعد گناہ کی دعوت دی ہے۔ 
طلاق کا خوف دلوں سے مٹا دیا ہے ۔۔
آج نکاح برقرار رکھتے ہوئے مرد اور عورت اپنے اپنے رستے بھٹک رہے ہیں۔
اللہ کو پاکیزگی پسند ہے۔ نکاح یا طلاق سے غرض نہیں۔۔
ہر صورت میں پاکیزگی برقرار رکھنے کا حکم ہے۔ 
اللہ  پاکیزہ نکاح پسند کرتا ہے
نکاح ہو یا طلاق دونوں اللہ کی حدود میں رہ کر ہونی چاہیئے۔۔
طلاق گناہ نہیں ۔۔ 
طلاق کا حق اللہ نے دیا ہے ۔ 
لہذٰا خود س گناہ بنا کر پیش کرنا اللہ کی نافرمانی ہے۔۔
طلاق صرف عورت کے لیے نہیں ۔ مرد کے لئے بھی حق اور جائز ہے ۔۔
طلاق کی شادی اور طلاق کی حدود اللہ نے بنائی ہیں۔ کوئی بھی اسے رد نہیں کر سکتا۔۔
اللہ نے جس طرح اور جتنا حق مرد اور عورت کو دیا ہے وہ حق ہے دونوں کے لئے۔۔ 
لہذٰا خود سے عورت اور مرد میں تضاد پیدا نہیں کرنا چاہیے۔۔

🕯القران🕯
Surat No 2 : سورة البقرة - Ayat No 229 

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ۪ فَاِمۡسَاکٌۢ بِمَعۡرُوۡفٍ اَوۡ تَسۡرِیۡحٌۢ بِاِحۡسَانٍ ؕ وَ لَا  یَحِلُّ  لَکُمۡ اَنۡ تَاۡخُذُوۡا مِمَّاۤ  اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ شَیۡئًا اِلَّاۤ اَنۡ یَّخَافَاۤ  اَلَّا یُقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰہِ ؕ فَاِنۡ خِفۡتُمۡ  اَلَّا یُقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰہِ  ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَا فِیۡمَا افۡتَدَتۡ بِہٖ ؕ تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ فَلَا تَعۡتَدُوۡہَا ۚ وَ مَنۡ یَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللّٰہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۲۲۹﴾
ترجمہ؛
طلاق ( زیادہ سے زیادہ ) دو بار ہونی چاہئیے ۔ اس کے بعد ( شوہر کے لیے دو ہی راستے ہیں ) یا تو قاعدے کے مطابق ( بیوی کو ) روک رکھے ( یعنی طلاق سے رجوع کرلے ) یا خوش اسلوبی سے چھوڑ دے ( یعنی رجوع کے بغیر عدت گذر جانے دے ) ۔ اور ( اے شوہرو ! ) تمہارے لیے حلال نہیں ہے کہ تم نے ان ( بیویوں ) کو جو کچھ دیا ہو وہ ( طلاق کے بدلے ) ان سے واپس لو ، الا یہ کہ دونوں کو اس بات کا اندیشہ ہو کہ وہ ( نکاح باقی رہنے کی صورت میں ) اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے ( ١٥١ ) ۔ چنانچہ اگر تمہیں اس بات کا اندیشہ ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو ان دونوں کے لیے اس میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ عورت مالی معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کرلے ۔ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود ہیں ، لہذا ان سے تجاوز نہ کرو ۔ اور جو لوگ اللہ کی حدود سے تجاوز کرتے ہیں وہ بڑے ظالم لوگ ہیں ۔