تقدیر اور نصیب
" تقدیر اور نصیب "
🔹🔹🔹
🔹تقدیر (Taqdeer)
اللہ کا اٹل فیصلہ ، نظام قدرت ، جو صرف اور صرف اللہ کے اختیار میں ہے ۔ جس میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ۔ ہمیشہ اللہ کے مقرر کردہ دائرہ قدرت کے مطابق قائم و دائم رہنے والا قانون قدرت ۔۔۔
🔹"تقدیر" کا مطلب ہے "اللہ کا علم اور اس کا پہلے سے طے کردہ نظام
اللہ نے پوری کائنات کا نظام ، اصول
اور حدود بنا دیے ہیں۔
🔹جیسے: موت کا وقت ، رزق کا دائرہ ، انسان کے امکانات ، دنیا کا چلنے کا طریقہ
یہ سب تقدیر کے حصے ہیں۔
"یعنی" کائناتی قوانین اور اللہ کا علمِ ازلی"
🔹مثال: سورج کا مشرق سے نکلنا ، سیاروں اور ستاروں کی گردشِ ، وقت ، دن مہینوں کا چکر
🔹موسم: سردی ، گرمی ، بہار ،خزاں
بادل ، بارش ،آندھی، طوفان ، زلزلے ، بجلی کی چنگھاڑ ۔۔
🔹نباتات و معدنیات ، ہوا پانی ، آگ ، مٹی کے خواص یہ سب صرف اور صرف اللہ کے اختیار قدرت میں ہے ۔
🔹پیدائش : کسی کا پیدا ہونا ، کب ، کہاں ، کیسے پیدا ہونا ،
🔹والدین ، بہن بھائی ، اولاد یعنی حقیقی رشتوں کا انتخاب ،
صنف/جنس کا انتخاب یعنی لڑکا یا لڑکی ،
کا انتخاب
🔹جینا ، مرنا یعنی جب تک زندگی پائے گا اور کب مرے گا یعنی موت کا وقت مقررہ پر آنا ۔یہ سب تقدیر کے دائرے میں ہیں۔
🔹نصیب (Naseeb)🔹
معنی: کسی بھی چیز کا ملنا ، حصول ، مہیاء ہونا ،
"نصیب" کا مطلب ہے وہ حاصل زندگی جو کسی بھی انسان کو اسکے عمل ، محنت ، کوشش اور فیصلوں ، معاشرتی قوانین کے اصول و ضوابط کے نتیجے میں ملتا ہے۔
یعنی انسان تقدیر/قانون قدرت کے اصولوں کے اندر رہتے ہوئے جو "محنت ، جہدوجہد ، کوشش کا انتخاب" کرتا ہے ، یا تدبیر اختیار کرتا ہے اور اس سے جو نتیجہ ملتا یا حاصل ہوتا ہے وہ اس کا نصیب ہوتا ہے۔ یعنی اسکی محنت ، مشقت اور کوشش کا صلہ یا نتیجہ ۔۔
🔹مثال: دو لوگ ایک ہی موقع پر ہوتے ہیں؛ ایک محنت کرتا ہے ، دوسرا سستی کرتا ہے۔
اللہ/ تقدیر نے دونوں کو مواقع دیے ، لیکن جو نتیجہ انہیں ملا ، وہ انکی محنت ، کوشش ، جدوجہد کا نتیجہ حاصل ہے جسے نصیب کہتے ہیں یعنی
انسان کی محنت کوشش اور جدوجہد کے مطابق حصولِ زندگی انکا نصیب ہوتا ہے
فرق (Difference)
🔹تقدیر :
اللہ کا علم + اللہ کا فیصلہ ،اٹل ، حتمی
بنا کسی تغیر و تبدل کے
کائناتی نظام جو اللہ کے اختیار ، قدرت کے منشاء ہے ۔
🔹نصیب :
انسان کا حصہ یعنی انسانی اختیارات کے نتائج کا حاصل ۔۔
جو اس کے انتخاب اور اعمال کے ساتھ جڑتا ہے۔
🔹تقدیر اللہ کی طے کردہ قانون قدرت ہے جس میں کسی کی مداخلت یا کسی قسم کی تبدیلی ممکن نہیں ہے
🔹اور نصیب انسانی علم و فکر تدبر کا عمل
کا نتیجہ ہے جو انسان اپنی کوشش ، جدوجہد اور عقلی فیصلوں سے پاتا ہے۔۔ یعنی حاصل کرتا ہے ۔
براہ کرم کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں۔
Password Generator
Password Generator
Select your options and click the "generate" button. Your passord will appear above.
اُردو اقتباسات ۔ دلچسپ مضامین
طلاق اور نکاح
وہی خدا ہے
x
قیامت کا علم
قیامت کا علم
33: سورة الأحزاب# 63
یَسۡئَلُکَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَۃِ ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُہَا عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ وَ مَا یُدۡرِیۡکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ تَکُوۡنُ قَرِیۡبًا ﴿۶۳﴾
ترجمہ:
لوگ تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ کہہ دو کہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے ۔ اور تمہیں کیا پتہ شاید قیامت قریب ہی آگئی ہو ۔
اچانک 👇🏻
🕯القران🕯
22 : سورة الحج - 55
وَ لَا یَزَالُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فِیۡ مِرۡیَۃٍ مِّنۡہُ حَتّٰی تَاۡتِیَہُمُ السَّاعَۃُ بَغۡتَۃً اَوۡ یَاۡتِیَہُمۡ عَذَابُ یَوۡمٍ عَقِیۡمٍ ﴿۵۵﴾
ترجمہ:
اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے ، وہ اس ( کلام ) کی طرف سے برابر شک ہی میں پڑے رہیں گے ، یہاں تک کہ ان پر اچانک قیامت آجائے ، یا ایسے دن کا عذاب ان تک آپہنچے جو ( ان کے لیے ) کسی بھلائی کو جنم دینے کی صلاحیت سے خالی ہوگا ۔
آنکھ جھپکنے 👇🏻
16 : سورة النحل - 77
وَ لِلّٰہِ غَیۡبُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ مَاۤ اَمۡرُ السَّاعَۃِ اِلَّا کَلَمۡحِ الۡبَصَرِ اَوۡ ہُوَ اَقۡرَبُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۷۷﴾
ترجمہ:
اور آسمانوں اور زمین کے سارے بھید اللہ کے قبضے میں ہیں ۔ اور قیامت کا معاملہ آنکھ جھپکنے سے زیادہ نہیں ہوگا ، بلکہ اس سے بھی جلدی ۔ یقین رکھو کہ اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے ۔
🕯القران🕯
22 : سورة الحج - 7
وَّ اَنَّ السَّاعَۃَ اٰتِیَۃٌ لَّا رَیۡبَ فِیۡہَا ۙ وَ اَنَّ اللّٰہَ یَبۡعَثُ مَنۡ فِی الۡقُبُوۡرِ ﴿۷﴾
ترجمہ:
اور اس لیے کہ قیامت کی گھڑی آنے والی ہے ، جس میں کوئی شک نہیں ہے ، اور اس لیے کہ اللہ ان سب لوگوں کو دوبارہ زندہ کرے گا جو قبروں میں ہیں ۔ ( ٦ )
خفیہ 👇
القرآن
20 : سورة طه - 15
اِنَّ السَّاعَۃَ اٰتِیَۃٌ اَکَادُ اُخۡفِیۡہَا لِتُجۡزٰی کُلُّ نَفۡسٍ ۢ بِمَا تَسۡعٰی ﴿۱۵﴾
ترجمہ:
یقین رکھو کہ قیامت کی گھڑی آنے والی ہے ۔ میں اس ( کے وقت ) کو خفیہ رکھنا چاہتا ہوں ، تاکہ ہر شخص کو اس کے کیے کا بدلہ ملے
-----------
1400 سال پہلے اللہ نے بتایا ۔۔
یعنی اللہ چاہے تو ابھی ایک پل میں قیامت آ جائے ۔۔۔۔۔
اور اللہ چاہے تو مزید 1400 سال یا کئی ہزار سال دنیا قائم رہ سکتی۔
اللہ خبردار کر رہا ہے۔
تنبیہ کر رہا ہے کہ آخرت کے لیے تیار رہو ۔۔
جب اللہ چاہے گا اچانک آجائے گی۔۔
لہذٰا ۔۔
خود سے عرصہ ماہ و سال کی قیاس آرائیاں/ وقت کا تعین کرنا غلط ہے۔
قرآن کی ہدایت کے بعد اہل ایمان پر
یہ یہ سوال نہیں بنتا کہ قیامت کب آئے گی؟؟؟
کب؟ کیوں؟ کیا؟ کیسے؟
جیسا اللہ نے کہا ہے ۔ ویسے ہی اچانک آجائے گی۔۔
تنبیہہ!
👈🏻تو غفلت سے جاگو ۔۔
👈🏻قیامت اور موت دونوں کبھی بھی آسکتی ہیں۔ اچانک
👈🏻موت آگئی تو مرنے والے کے لیے تو قیامت ہی آ گئی جیسے ۔۔
چونکہ موت کسی قیامت سے کم نہیں ہوتی ۔۔
موت قیامت کی اکائی ہی تو ہے۔۔
سمجھنے کے لیے ۔۔
واللہ اعلم ۔۔
ربّ زدنی علما ۔۔۔
الھم فقھنی فی الدین
جہاد
جہاد ۔۔۔ جہاد کیا ہے؟
لفظ جہاد ہر دوسرے انسان کی زبان پر ہوتا ہے۔ ہم اکثر جو بولتے ہیں اسکے معنی اور مطلب سے ناواقف ہوتے ہیں۔
لفظ جہاد ہماری زندگی میں کتنا اہم ہے۔ یا یوں کہنا چاہیے کہ جہد کے بغیر زندگی بے معنی ہے۔
جہاد کو اللہ رب العالمین نے فرض قرار دیا ہے۔ یعنی لازمی امر ہے۔۔ جہاد ۔۔۔ جدو جہد کی جمع ہے۔۔ جدوجہد کے معنی کوشش کرنے کے ہیں ۔۔ ہر ممکن حد تک کوشش کرنا۔
زندگی کے ہر جائز امور/کام کے لیے اللہ کی حدود میں رہ کر اپنی زندگی میں شامل کرنا۔
روز زندگی کے تمام معاملات کو بہتر سے بہترین بنانے اور گزارنے کے لئے کوشاں ہونا۔
اللہ کے احکام حقوق فرائض کی ادائیگی کے لیے کوشاں رہنا۔
عدل انصاف کا نظام قائم کرنے کے لیے کوشاں ہونا ۔ مظلوم کی داد رسی اور ظلم کے خلاف کوشاں ہونا۔
بات کسی انسان کی، گھر کی، خاندان کی، محلے شہر یا ملک/خطے کی ہو ۔۔ اللہ کا قانون اور احکام سب پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔
لیکن ہم نے جہاد کو صرف سرحدوں اور ہتھیار اٹھانے کی حد تک محدود کر دیا ہے ۔۔ اور اپنی ذاتی ذمداریوں سے منہ موڑ لیا ہے۔ جہاد ہر مسلمان پر فرض ہے۔
یعنی مسلمانوں کے حقوق و جان و مال کی حفاظت کرنا، امن و سلامتی کے لیے کوشش کرنا، ہر سطح پر جہاد کہلاتا ہے۔۔ جہاد کی کئی اقسام ہیں ۔۔ 1- منہ سے یعنی بات چیت سے سمجھا کر۔۔ 2- معاہدوں کے ذریعے حدودِ قوائد کے ذریعے ۔۔ مال و اسباب کے ذریعے ۔ جان اور ہتھیار کے ذریعے۔۔ آخری قسم یعنی جب کوئی چارہ نہ رہے تو ہتھیار سے جہاد کرنا ۔ ہتھیار سے جہاد کرنے کا مطلب جنگ ہوتا ہے۔۔ جو کفار سے لڑنا ہے ۔مسلمانوں کی جان و مال، زندگی کی بقاء اور دین اسلام سربلندی کے لئے لڑنا ہے۔۔ یہ آخری حل ہے۔ مگر ہم کم علم لوگ اسے پہلے نمبر پر رکھتے ہیں ۔۔ چونکہ یہ کام ہمیں نہیں کرنا بلکہ دوسروں سے کروانا ہوتا ہے۔۔ ہمیں تو صرف زبان کے تیر چلانے ہوتے ہیں۔۔ جو سرہن گناہ ہے۔ جہاد اسلام کی سربلندی کے لئے کوشش اور مسلمانوں کے جان مال کی حفاظت کسی ایک پر لازم نہیں بلکہ ہر مسلمان پر فرداً فرداً فرض ہے ۔۔ کوئی مسلمان بری الزمہ نہیں۔ اپنی طاقت ، صلاحیت اور حیثیت کے مطابق ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کی جان ومال اور حقوق کا تحفظ فرض ہے۔ اب ذرا ہم اپنا جائزہ لیتے ہیں کہ ہم کیا ہیں؟؟؟
ہم اللہ کے احکام کی نافرمانی کرتے ہیں، گھر کے افراد میں تفریق کرتے ہیں۔ خود ایک دوسرے کے حقوق غضب کرتے ہیں۔ گھروں میں آپس میں ایک دوسرے کے تقدس کو پامال کرتے ہیں۔ یوں کہنا درست ہوگا کہ "ہر گھر ایک کشمیر ہے" ذرا غور کریں اپنے گھروں اور خاندانوں پر ۔۔۔ اور اپنے مسلمان ہونے پر۔۔۔
شکر الحمداللہ
آج پاکستان کو باوقار ایماندار اور مضبوط قیادت عطاء ہوئی ہے اللہ کے کرم سے۔۔ موجودہ وزیراعظم عمران خان اسلام کی سربلندی اور مسلم اُمہ پر جیسے فلسطین، شام، عراق، اردن، برما اور کشمیر میں سالہاسال سے ظلم وبربریت کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ اسے روکنے اور مسلم اُمہ کو آزادی اور حقوق دلوانے کے لیے کوشاں ہیں۔۔ جس طرح پاکستان آزاد ہوا۔ اسی طرح ان شاءاللہ کشمیر اور دیگر ممالک/خطوں میں بھی اسلامی پرچم لہرائے گا۔ اور مسلمان امن و سلامتی اور فتح و نصرت سے سرفراز ہونگے۔ اسلام غالب ہوگا اور مسلم امہ کو آزادی اور خودمختاری حاصل ہوگی۔ ان شاءاللہ❣️
خطے کاجکا تو جاری ہے اور جاری رہے گا۔
ذرا اے مسلمان اپنی ذات کا جہاد بھی کر لے۔ اپنے والدین، بہن بھائی، اولاد اور دیگر قرب جوار کا جہاد تجھ پر فرض ہے۔ ہم سب پر فرض ہے۔۔




